29 اگست 2026 - 16:22
طالبان کا امریکا سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا عندیہ، کابل میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کی خواہش

کابل: طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ طالبان امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ کابل میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ فعال ہو جبکہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات بحال کیے جائیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھارتی ٹی وی چینل ’’آر ٹی انڈیا‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور امریکا کے تعلقات انتہائی اہم ہیں اور طالبان چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر رہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے دور کی پالیسی ترک کرے اور کہا کہ طالبان کی خواہش ہے کہ کابل میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ کھولا جائے، واشنگٹن میں افغان سفارتخانہ بھی فعال ہو اور دونوں ممالک کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات بحال کیے جائیں۔

طالبان ترجمان نے افغانستان کے منجمد اربوں ڈالر کے اثاثے آزاد کیے جانے کے ممکنہ اثرات کے بارے میں کہا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے میں یقیناً مدد ملے گی۔ ان کے مطابق منجمد اثاثوں کا ایک حصہ افغان مرکزی بینک سے متعلق ہے جسے مالیاتی ذخیرے کے طور پر محفوظ رکھا جاتا ہے، جبکہ تاجروں سے متعلق رقوم ان کے اصل مالکان کو واپس کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے بعض اسلامی ممالک کی جانب سے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہ کیے جانے کے حوالے سے کہا کہ طالبان کے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ایران، پاکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان سمیت کئی ممالک کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات اور باضابطہ روابط موجود ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ان ممالک کے سفارتخانے کابل میں فعال ہیں جبکہ افغانستان کے سفارتخانے بھی ان ممالک میں طالبان کے زیر انتظام کام کر رہے ہیں، تاہم باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنا متعلقہ ممالک کا اپنا فیصلہ ہے۔

طالبان ترجمان نے انسانی حقوق کی پاسداری کو طالبان کی بین الاقوامی حیثیت تسلیم کرنے سے مشروط کیے جانے کو بھی غیر منصفانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان افغانستان کے بیشتر علاقے پر کنٹرول رکھتے ہیں اور عوام کو خدمات فراہم کر رہے ہیں، اس لیے انہیں تسلیم کیا جانا چاہیے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے اضافی شرائط عائد کرنا مناسب نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha